# نکاح اور میاں بیوی کا رشتہ

نکاح کا مقصد، شوہر اور بیوی کے حق اور ذمہ داریاں، اور مشکل وقت میں قرآن اور سنت کی رہنمائی۔

# نکاح کا مقصد: سکون، محبت اور رحمت

نکاح کے دن دو لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں اور ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔ قرآن اس رشتے کو ایک بہت خوبصورت نام دیتا ہے۔ وہ اسے اللہ کی نشانی کہتا ہے: "اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے شریکِ حیات بنائے، تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سوچتے سمجھتے ہیں۔"<sup>[1](https://quran.com/30/21)</sup>

اس ایک آیت میں نکاح کا پورا مقصد آ گیا ہے۔ پہلی بات ہے سکون، یعنی گھر ایسی جگہ ہو جہاں دن بھر کی تھکن اتر جائے۔ دوسری بات ہے محبت، جو دل میں بھی ہو اور بات چیت اور برتاؤ میں بھی دکھے۔ اور تیسری بات ہے رحمت، یعنی وہ نرمی اور ہمدردی جو بیماری، بڑھاپے اور مشکل وقت میں بھی ساتھ نبھائے۔ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ محبت اور رحمت اللہ نے خود رکھی ہے۔ اس لیے اس کے بڑھنے کی دعا بھی اسی سے کی جا سکتی ہے۔

یہ رشتہ اتنا گہرا کیوں ہے، اس کا اشارہ ایک اور آیت میں ملتا ہے: "اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا۔"<sup>[2](https://quran.com/4/1)</sup> شوہر اور بیوی کی اصل ایک ہی ہے، اور رب بھی ایک ہی ہے۔ اسی لیے وہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ کو اپنا سمجھتے ہیں۔

## ایک دوسرے کا لباس

اس قربت کو سمجھانے کے لیے قرآن نے ایک بہت پیاری مثال دی ہے: "وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔"<sup>[3](https://quran.com/2/187)</sup> یہاں ایک ہی لفظ دونوں کے لیے آیا ہے۔ لباس انسان کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ وہ اس کی کمیوں کو ڈھانپتا ہے، اسے گرمی اور سردی سے بچاتا ہے اور اس کی خوبصورتی بڑھاتا ہے۔ شوہر اور بیوی بھی ایک دوسرے کے لیے یہی ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی کمیوں پر پردہ رکھتے ہیں، ایک دوسرے کو سنبھالتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوبصورتی بن جاتے ہیں۔

اور یہ قربت صرف جذبات پر نہیں ٹکی ہوتی۔ جذبات کبھی تیز ہوتے ہیں اور کبھی ہلکے، لیکن نکاح ایک وعدہ ہے جو اپنی جگہ رہتا ہے۔ قرآن بیوی کے بارے میں مرد سے کہتا ہے: "اور انہوں نے تم سے بہت پختہ وعدہ لیا ہے۔"<sup>[4](https://quran.com/4/21)</sup> یہی الفاظ قرآن نے اس وعدے کے لیے بھی استعمال کیے ہیں جو اللہ نے اپنے نبیوں سے لیا تھا۔<sup>[5](https://quran.com/33/7)</sup> اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس رشتے کی کتنی قدر ہے۔

## نکاح بھی دین کا حصہ ہے

اسی لیے گھر بسانا دین سے دور ہونا نہیں ہے۔ تین لوگوں نے نبی ﷺ کی عبادت کا حال سنا تو انہیں اپنی عبادت کم لگی۔ ایک نے ہر رات نماز پڑھنے کا ارادہ کیا، دوسرے نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا، اور تیسرے نے کہا کہ وہ نکاح نہیں کرے گا۔ نبی ﷺ نے انہیں بتایا: "لیکن میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔"<sup>[6](https://sunnah.com/bukhari:5063)</sup> یعنی اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھی زندگی گزارنا بھی نبی ﷺ کے طریقے پر چلنا ہے۔

تو جب آپ اپنے شریکِ حیات کے لیے کچھ اچھا کرنے کا سوچیں، تو یاد رکھیے کہ یہ بھی اللہ کو خوش کرنے کا ایک راستہ ہے۔ اور اسی سے یہ دعا مانگتے رہیے جو قرآن نے سکھائی ہے: "اے ہمارے رب، ہمیں ہمارے شریکِ حیات اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے، اور ہمیں اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آگے چلنے والا بنا۔"<sup>[7](https://quran.com/25/74)</sup> آمین۔

---

**حوالہ جات:** <sup>1</sup> [قرآن 30:21](https://quran.com/30/21)، <sup>2</sup> [قرآن 4:1](https://quran.com/4/1)، <sup>3</sup> [قرآن 2:187](https://quran.com/2/187)، <sup>4</sup> [قرآن 4:21](https://quran.com/4/21)، <sup>5</sup> [قرآن 33:7](https://quran.com/33/7)، <sup>6</sup> [صحیح البخاری 5063](https://sunnah.com/bukhari:5063)، <sup>7</sup> [قرآن 25:74](https://quran.com/25/74)۔

# میاں بیوی کے حق: دونوں طرف کی ذمہ داری

ہر جوڑے کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کا رشتہ دن بہ دن اور خوبصورت ہوتا جائے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس رشتے کا ذکر قرآن میں کیا ہے، اور بتایا ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں کا ایک دوسرے پر حق ہے: "اور عورتوں کے بھی بھلے طریقے سے ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں۔"<sup>[1](https://quran.com/2/228)</sup>

حق کا لفظ سن کر کبھی لگتا ہے کہ یہ کوئی سخت سی بات ہوگی۔ لیکن گھر میں اس کا مطلب بس اتنا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی ضرورت اور خوشی کو اپنی ذمہ داری سمجھ لیں۔ شوہر بیوی کا خیال رکھے، بیوی شوہر کا، اور دونوں یہ کام اللہ کو خوش کرنے کے لیے کریں۔

## ایک امانت

اس رشتے کی قدر کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے آخری حج کے خطبے میں بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: "عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امان میں لیا ہے۔"<sup>[2](https://sunnah.com/muslim:1218a)</sup> یعنی نکاح کے بعد بیوی شوہر کے پاس اللہ کی امانت ہوتی ہے۔ جب یہ بات شوہر کے دل میں بیٹھ جاتی ہے، تو اس کی باتوں اور اس کے برتاؤ میں خود ہی نرمی آ جاتی ہے۔

اسی خطبے کی ایک روایت میں آپ ﷺ نے دونوں کا ذکر ایک ساتھ کیا: "سنو! تمہارے اپنی بیویوں پر حق ہیں، اور تمہاری بیویوں کے تم پر حق ہیں۔"<sup>[3](https://sunnah.com/tirmidhi:1163)</sup> پھر آپ نے دونوں کے حق کی مثال بھی دی۔ بیوی گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دے جو شوہر کو پسند نہ ہو، اور شوہر بیوی کے کھانے اور کپڑے کا اچھے سے خیال رکھے۔<sup>[3](https://sunnah.com/tirmidhi:1163)</sup> یہ گھر کی روز کی باتیں ہیں، اور انہی سے ایک دوسرے پر بھروسا بنتا ہے۔

کھانے کی بات آئی ہے تو ایک پیاری حدیث بھی سن لیجیے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم اللہ کی رضا کے لیے جو کچھ خرچ کرو، اس پر تمہیں ثواب ملے گا، یہاں تک کہ اس نوالے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔"<sup>[4](https://sunnah.com/bukhari:56)</sup> ایک نوالہ کتنی چھوٹی سی چیز ہے، پھر بھی اللہ کے یہاں اس کا ثواب ہے۔ تو جو شوہر اپنی بیوی کی ضرورت پوری کرتا ہے، وہ صرف ایک ذمہ داری ادا نہیں کر رہا، بلکہ ثواب بھی کما رہا ہے۔

اسی طرح بیوی بھی گھر میں ایک بڑی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا۔"<sup>[5](https://sunnah.com/bukhari:2554)</sup> اس حدیث میں دونوں کے لیے ایک ہی لفظ آیا ہے۔ گھر دونوں کی محنت سے بنتا ہے، اور دونوں کی محنت اللہ کے سامنے ہے۔

اس ذمہ داری کا سب سے خوبصورت حصہ آپس کا برتاؤ ہے۔ قرآن کہتا ہے: "اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے رہو۔"<sup>[6](https://quran.com/4/19)</sup> اس میں اچھی بات کرنا، نرمی سے پیش آنا، اور اپنا رنگ روپ بھی ایسا رکھنا شامل ہے جو بیوی کو اچھا لگے، جیسے مرد اپنے لیے یہی چاہتا ہے۔<sup>[7](https://quran.com/4:19/tafsirs/en-tafisr-ibn-kathir)</sup> ایک دوسرے کے لیے اچھا دکھنا بھی محبت کا ایک پیارا اظہار ہے۔

## ساتھ ساتھ اللہ کی طرف

جب گھر میں ایسی نرمی آ جاتی ہے، تو شوہر بیوی دین میں بھی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے لگتے ہیں۔ نبی ﷺ نے ایسے جوڑے کے لیے دعا فرمائی: "اللہ اس مرد پر رحم کرے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو جگائے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی چھڑکے۔ اللہ اس عورت پر رحم کرے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو جگائے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی چھڑکے۔"<sup>[8](https://sunnah.com/abudawud:1308)</sup> دیکھیے، دعا دونوں کے لیے ایک جیسی ہے۔ جو پہلے جاگ جائے، وہ دوسرے کو بھی ساتھ لے لے۔

اور عبادت کا شوق گھر سے دور نہیں لے جاتا۔ ایک صحابی دن بھر روزے رکھتے اور رات بھر نماز پڑھتے تھے۔ نبی ﷺ نے انہیں سمجھایا: "تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے، اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے۔"<sup>[9](https://sunnah.com/bukhari:5199)</sup> یعنی بیوی کے ساتھ وقت گزارنا بھی دین کا ہی حصہ ہے۔

جب شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا خیال اللہ کے لیے رکھنے لگتے ہیں، تو چھوٹے چھوٹے کام بھی عبادت بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے لیے سکون اور خوشی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

---

**حوالہ جات:** <sup>1</sup> [قرآن 2:228](https://quran.com/2/228)، <sup>2</sup> [صحیح مسلم 1218a](https://sunnah.com/muslim:1218a)، <sup>3</sup> [جامع ترمذی 1163](https://sunnah.com/tirmidhi:1163)، <sup>4</sup> [صحیح البخاری 56](https://sunnah.com/bukhari:56)، <sup>5</sup> [صحیح البخاری 2554](https://sunnah.com/bukhari:2554)، <sup>6</sup> [قرآن 4:19](https://quran.com/4/19)، <sup>7</sup> [تفسیر ابن کثیر 4:19](https://quran.com/4:19/tafsirs/en-tafisr-ibn-kathir)، <sup>8</sup> [سنن ابی داود 1308](https://sunnah.com/abudawud:1308)، <sup>9</sup> [صحیح البخاری 5199](https://sunnah.com/bukhari:5199)۔

# اچھے شوہر کی خوبیاں

ہر اچھا شوہر چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ خوش رہے۔ اس راستے پر نبی ﷺ سے بہتر رہنما کوئی نہیں، کیونکہ آپ نے خود اپنے گھر میں یہ کر کے دکھایا۔ آپ نے فرمایا: "تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہو، اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہوں۔"<sup>[1](https://sunnah.com/tirmidhi:3895)</sup> یعنی ایک مرد کی اچھائی کی پہچان اس کے گھر سے ہوتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ اپنے گھر میں کیسے تھے۔

## گھر میں ساتھ دینا

کسی نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا: "آپ گھر والوں کے کام میں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لیے چلے جاتے تھے۔"<sup>[2](https://sunnah.com/bukhari:676)</sup> اللہ کے رسول، امت کے رہنما، اور پھر بھی گھر کے کام میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ جب کوئی شوہر تھکن کے بعد بھی بیوی کا کام ہلکا کر دیتا ہے، تو وہ نبی ﷺ کی ایک سنت پر عمل کر رہا ہوتا ہے، اور بیوی کے دل میں اس کی جگہ اور بڑھ جاتی ہے۔

گھر کا ساتھ صرف کام تک نہیں تھا۔ آپ اپنی بیوی کے ساتھ ہنستے کھیلتے بھی تھے۔ حضرت عائشہ ایک سفر کا واقعہ بتاتی ہیں: "میں نے آپ ﷺ سے دوڑ لگائی اور میں آگے نکل گئی۔ پھر جب میرا وزن بڑھ گیا اور میں نے دوڑ لگائی تو آپ آگے نکل گئے، اور فرمایا: یہ اس جیت کا بدلہ ہے۔"<sup>[3](https://sunnah.com/abudawud:2578)</sup> سوچا جائے تو یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے، لیکن حضرت عائشہ نے اسے یاد رکھا اور لوگوں کو بتایا۔ بیوی کے ساتھ گزارا ہوا ایسا ہلکا پھلکا وقت بھی رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔

## دل کا حال سمجھنا

اسی ساتھ سے ایک دوسرے کو سمجھنا بھی آتا ہے۔ نبی ﷺ نے ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا: "مجھے پتا چل جاتا ہے کہ کب تم مجھ سے خوش ہو اور کب ناراض۔" انہوں نے پوچھا کیسے؟ آپ نے فرمایا کہ جب تم خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو "محمد کے رب کی قسم"، اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو "ابراہیم کے رب کی قسم"۔ انہوں نے کہا: "جی ہاں، اللہ کی قسم، میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔"<sup>[4](https://sunnah.com/bukhari:5228)</sup> آپ ﷺ بیوی کے اتنے چھوٹے سے اشارے کو بھی پہچان لیتے تھے۔ اچھا شوہر بھی ایسے ہی بیوی کی بات کے ساتھ اس کا لہجہ اور اس کی خاموشی بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ خیال ان دنوں میں اور بھی بڑھ جاتا تھا جب بیوی کو اپنے پن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں: "میں ماہواری کی حالت میں پیتی، پھر برتن نبی ﷺ کو دیتی، تو آپ اسی جگہ منہ رکھ کر پیتے جہاں سے میں نے پیا تھا۔"<sup>[5](https://sunnah.com/muslim:300)</sup> ان دنوں میں بھی بیوی کے ساتھ وہی قربت اور وہی عزت، یہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا۔

گھر میں کبھی کبھی ایسی بات بھی ہو جاتی ہے جو اچھی نہ لگے۔ دیکھیے، نبی ﷺ نے ایسے موقع پر کیا کیا۔ ایک بار آپ اپنی ایک بیوی کے گھر تھے کہ دوسری بیوی نے کھانا بھیجا۔ جس بیوی کا گھر تھا، اس نے کھانا لانے والے کے ہاتھ پر مارا اور برتن گر کر ٹوٹ گیا۔ آپ نے برتن کے ٹکڑے جمع کیے، کھانا سمیٹ کر فرمایا: "تمہاری ماں کو جلن ہو گئی۔" پھر اسی گھر سے صحیح برتن منگوا کر اس بیوی کو بھجوا دیا جس کا برتن ٹوٹا تھا۔<sup>[6](https://sunnah.com/bukhari:5225)</sup> اس روایت میں نہ ڈانٹ کا ذکر ہے، نہ ذلت کا۔ نقصان کا انصاف بھی ہو گیا اور گھر کا سکون بھی بچا رہا۔

اسی نرمی کا راز آپ ﷺ نے ایک چھوٹی سی بات میں بتا دیا: "کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت نہ کرے۔ اگر اس کی ایک عادت اسے ناپسند ہے، تو دوسری عادت پسند آئے گی۔"<sup>[7](https://sunnah.com/muslim:1468b)</sup> جب نظر خوبیوں پر رہتی ہے تو وہی بیوی ہر دن ایک نعمت لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شوہر کو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا بننے کی توفیق دے۔ آمین۔

---

**حوالہ جات:** <sup>1</sup> [جامع ترمذی 3895](https://sunnah.com/tirmidhi:3895)، <sup>2</sup> [صحیح البخاری 676](https://sunnah.com/bukhari:676)، <sup>3</sup> [سنن ابی داود 2578](https://sunnah.com/abudawud:2578)، <sup>4</sup> [صحیح البخاری 5228](https://sunnah.com/bukhari:5228)، <sup>5</sup> [صحیح مسلم 300](https://sunnah.com/muslim:300)، <sup>6</sup> [صحیح البخاری 5225](https://sunnah.com/bukhari:5225)، <sup>7</sup> [صحیح مسلم 1468b](https://sunnah.com/muslim:1468b)۔

# شوہر کی ذمہ داریاں

نکاح کے ساتھ ایک مرد کی زندگی میں ایک نئی ذمہ داری آتی ہے۔ اب کوئی ہے جو اس کے بھروسے اپنا گھر چھوڑ کر آئی ہے۔ اس ذمہ داری کی شروعات ایک تحفے سے ہوتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: "اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی خوشی دو۔"<sup>[1](https://quran.com/4/4)</sup> یعنی مہر کوئی بوجھ یا رسم نہیں، بلکہ بیوی کا حق ہے، جو شوہر دل کی خوشی سے اسے دیتا ہے۔ یہ نئے گھر کی پہلی اچھی شروعات ہے۔

اسی تحفے سے آگے روز کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے، یعنی گھر کا خرچ۔ اس میں اللہ نے مرد پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا۔ قرآن کہتا ہے: "جس کے پاس زیادہ ہے وہ اپنے حساب سے خرچ کرے، اور جس کی روزی تنگ ہو وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ کسی پر اس سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا جتنا اس نے اسے دیا ہے۔ اللہ مشکل کے بعد آسانی بھی دے گا۔"<sup>[2](https://quran.com/65/7)</sup> اس آیت میں شوہر کے لیے بڑا سکون ہے۔ اللہ اس سے وہی چاہتا ہے جو اس کے بس میں ہے، اور تنگی کے دن ہمیشہ نہیں رہتے۔

## گھر کا خرچ: ایک عبادت

کبھی کبھی دن بھر کی محنت کے بعد لگتا ہے کہ یہ سب تو بس گھر چلانے کے لیے ہے۔ لیکن نبی ﷺ نے اس کی قدر بہت اونچی بتائی ہے۔ آپ نے فرمایا: "ایک دینار وہ ہے جو تم نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایک وہ جو غلام کو آزاد کرنے میں دیا، ایک وہ جو کسی غریب کو صدقے میں دیا، اور ایک وہ جو اپنے گھر والوں پر خرچ کیا۔ ان سب میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے جو تم نے اپنے گھر والوں پر خرچ کیا۔"<sup>[3](https://sunnah.com/muslim:995)</sup>

بس اس میں نیت کا خیال رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جب مسلمان ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔"<sup>[4](https://sunnah.com/bukhari:5351)</sup> تو جب بیوی اپنی کوئی ضرورت بتاتی ہے، اور شوہر اسے پورا کرتا ہے، تو وہ اللہ کے یہاں اپنے لیے صدقہ جمع کر رہا ہوتا ہے۔ یہ سوچ آ جائے تو بیوی کی ضرورت پوری کرنا ایک بوجھ نہیں، بلکہ ایک موقع لگنے لگتا ہے۔

ایک صحابی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے۔ آپ نے فرمایا: "جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، اور جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ۔"<sup>[5](https://sunnah.com/abudawud:2142)</sup> اس میں کتنی پیاری بات چھپی ہے۔ شوہر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، وہی بیوی کے لیے بھی پسند کرے۔ اور اسی حدیث میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اسے برا بھلا نہ کہو۔<sup>[5](https://sunnah.com/abudawud:2142)</sup> یعنی بیوی کا حق صرف کھانے اور کپڑے کا نہیں، اچھی بات کا بھی ہے۔ کبھی کبھی دو میٹھے بول کسی تحفے سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔

## بیوی کے دل کا خیال

یہ خیال چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی دکھتا ہے۔ جب صحابہ لمبے سفر سے واپس آتے، تو نبی ﷺ انہیں سمجھاتے کہ رات کو سیدھے گھر نہ جائیں، بلکہ بیوی کو سنورنے کا وقت دیں۔<sup>[6](https://sunnah.com/bukhari:5244),[7](https://sunnah.com/bukhari:5246)</sup> یعنی بیوی کو بھی یہ موقع ملے کہ وہ خوشی سے شوہر کا استقبال کر سکے۔ یہ ایک چھوٹی سی بات ہے، لیکن اس سے پتا چلتا ہے کہ نبی ﷺ بیوی کے جذبات کا کتنا خیال رکھتے تھے۔

میاں بیوی کا جسمانی رشتہ بھی اسی محبت کا حصہ ہے، اور اسلام نے اسے بھی ثواب کا کام بنایا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس رشتے میں بھی صدقہ ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا اپنی خواہش پوری کرنے پر بھی ثواب ملے گا؟ آپ نے فرمایا: "بتاؤ، اگر وہ اسے حرام جگہ پورا کرتا تو کیا اسے گناہ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پورا کرتا ہے، تو اسے ثواب ملتا ہے۔"<sup>[8](https://sunnah.com/muslim:1006)</sup> جب یہ رشتہ اللہ کی پسند کا ہے، تو اس میں بیوی کی خوشی کا خیال رکھنا بھی اسی اچھائی کا حصہ ہے۔

## گھر کو دین سے جوڑنا

ان سب کے ساتھ ایک اور خوبصورت ذمہ داری ہے۔ قرآن میں نبی ﷺ سے کہا گیا: "اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر جمے رہو۔"<sup>[9](https://quran.com/20/132)</sup> یہاں پہلے گھر والوں کا ذکر ہے اور پھر یہ کہ خود بھی جمے رہو۔ گھر میں دین سب سے اچھے طریقے سے تب آتا ہے جب شوہر خود نماز کا پابندی سے خیال رکھے اور محبت سے گھر والوں کو بھی ساتھ لے۔

جب شوہر یہ سب اللہ کے لیے کرتا ہے، تو اس کی تھکن بھی ثواب بن جاتی ہے اور اس کا گھر بھی سکون کی جگہ۔ اللہ تعالیٰ ہر شوہر کو یہ ذمہ داری خوشی سے نبھانے کی توفیق دے۔ آمین۔

---

**حوالہ جات:** <sup>1</sup> [قرآن 4:4](https://quran.com/4/4)، <sup>2</sup> [قرآن 65:7](https://quran.com/65/7)، <sup>3</sup> [صحیح مسلم 995](https://sunnah.com/muslim:995)، <sup>4</sup> [صحیح البخاری 5351](https://sunnah.com/bukhari:5351)، <sup>5</sup> [سنن ابی داود 2142](https://sunnah.com/abudawud:2142)، <sup>6</sup> [صحیح البخاری 5244](https://sunnah.com/bukhari:5244)، <sup>7</sup> [صحیح البخاری 5246](https://sunnah.com/bukhari:5246)، <sup>8</sup> [صحیح مسلم 1006](https://sunnah.com/muslim:1006)، <sup>9</sup> [قرآن 20:132](https://quran.com/20/132)۔

# نیک بیوی کی خوبیاں

ہر اچھی بیوی چاہتی ہے کہ اس کا گھر سکون کا گھر ہو اور اس کا شوہر اس کے ساتھ خوش رہے۔ اس چاہت کی اسلام میں بہت قدر ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "یہ دنیا فائدہ اٹھانے کی جگہ ہے، اور دنیا کی سب سے بہتر نعمت نیک عورت ہے۔"<sup>[1](https://sunnah.com/muslim/17/76)</sup> دیکھیے، دنیا میں کتنی چیزیں ہیں جن کے پیچھے لوگ بھاگتے ہیں، لیکن نبی ﷺ نے سب سے بہتر ایک نیک عورت کو کہا۔ یہ اس عورت کا مرتبہ ہے جو اپنے گھر کو اپنی اچھائی سے روشن رکھتی ہے۔

## جنت کا آسان راستہ

اس مرتبے تک پہنچنے کے لیے کوئی بہت مشکل کام نہیں چاہیے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب عورت اپنی پانچ وقت کی نماز پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی عزت کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی بات مانے، تو جنت کے جس دروازے سے چاہے اندر چلی جائے۔"<sup>[2](https://sunnah.com/mishkat:3254)</sup> یہ وہی کام ہیں جو ایک مسلمان عورت اپنی روز کی زندگی میں کرتی ہے۔ اللہ نے انہی پر اتنا بڑا انعام رکھ دیا ہے۔ اور شوہر کی بات ماننا بھلائی کے کاموں میں ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے: "بات صرف بھلائی کے کاموں میں مانی جاتی ہے۔"<sup>[3](https://sunnah.com/bukhari:7257)</sup>

ایک بار کسی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ سب سے اچھی عورت کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا: "وہ جو شوہر کے دیکھنے پر اسے خوش کر دے، اس کے کہنے پر اس کی بات مان لے، اور اپنی ذات اور اپنے مال کے بارے میں ایسا کچھ نہ کرے جو اسے ناپسند ہو۔"<sup>[4](https://sunnah.com/nasai:3231)</sup> یہاں پہلی بات خوشی کی ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک پیاری بات اور تھوڑا سا سنورنا، یہ چھوٹی چیزیں ہیں، لیکن دن بھر کے تھکے ہوئے شوہر کے لیے یہی گھر کا سکون بن جاتی ہیں۔ جب بیوی اس نیت سے شوہر کو خوش کرتی ہے کہ اللہ راضی ہو، تو یہ بھی اس کے لیے بھلائی کا کام بن جاتا ہے۔

## دو روشن مثالیں

نیک بیوی کی سب سے خوبصورت مثال حضرت خدیجہ ہیں۔ جب نبی ﷺ پر پہلی وحی آئی تو آپ گھبرائے ہوئے گھر آئے اور انہیں سب کچھ بتایا، اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ حضرت خدیجہ نے کہا: "ہرگز نہیں! اللہ کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ رشتہ داروں کا خیال رکھتے ہیں، غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرتے ہیں، مہمانوں کی خاطر کرتے ہیں اور مشکل میں پڑنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔"<sup>[5](https://sunnah.com/bukhari:3)</sup> انہوں نے اس مشکل گھڑی میں شوہر کو ان کی خوبیاں یاد دلائیں اور پھر انہیں ساتھ لے کر ایک ایسے آدمی کے پاس گئیں جو آسمانی کتابوں کو جانتا تھا۔ شوہر کے مشکل وقت میں اس کے دل کو سنبھالنا کسی بھی بیوی کا بہت بڑا کام ہے۔

اس ساتھ کو نبی ﷺ نے کبھی نہیں بھلایا۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ آپ ان کے انتقال کے بعد بھی اکثر انہیں یاد کرتے، اور جب بکری ذبح کرتے تو اس کا گوشت حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو بھیجتے۔<sup>[6](https://sunnah.com/bukhari:3818)</sup> اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں جنت میں ایک محل کی خوش خبری دی۔<sup>[7](https://sunnah.com/muslim:2435a)</sup>

دوسری مثال حضرت ام سلمہ کی ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر نبی ﷺ نے صحابہ سے قربانی کرنے اور سر منڈوانے کو کہا۔ آپ نے تین بار فرمایا، لیکن کوئی نہیں اٹھا۔ آپ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے اور انہیں یہ بات بتائی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ کسی سے کچھ نہ کہیں، بس باہر جا کر اپنی قربانی کر لیں اور اپنا سر منڈوا لیں۔ آپ نے ایسا ہی کیا، اور جب صحابہ نے یہ دیکھا تو سب اٹھ کر قربانی کرنے لگے۔<sup>[8](https://sunnah.com/bukhari:2731)</sup> یعنی نیک بیوی صرف گھر ہی نہیں سنبھالتی، وہ اپنے شوہر کو اچھا مشورہ بھی دیتی ہے، اور نبی ﷺ نے خود اپنی بیوی کے مشورے کو قبول فرمایا۔

آخر میں قرآن کا یہ وعدہ یاد رکھیے: "جو بھی نیک کام کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور اچھی زندگی دیں گے، اور انہیں ان کے بہترین کاموں کا بدلہ دیں گے۔"<sup>[9](https://quran.com/16/97)</sup> گھر میں کی گئی ہر محنت اور ہر پیار بھری بات اللہ کے سامنے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر بیوی کو اپنے گھر کے لیے سکون اور اپنے شوہر کے لیے سچی ساتھی بنائے۔ آمین۔

---

**حوالہ جات:** <sup>1</sup> [صحیح مسلم 1467](https://sunnah.com/muslim/17/76)، <sup>2</sup> [مشکوٰۃ المصابیح 3254](https://sunnah.com/mishkat:3254)، <sup>3</sup> [صحیح البخاری 7257](https://sunnah.com/bukhari:7257)، <sup>4</sup> [سنن نسائی 3231](https://sunnah.com/nasai:3231)، <sup>5</sup> [صحیح البخاری 3](https://sunnah.com/bukhari:3)، <sup>6</sup> [صحیح البخاری 3818](https://sunnah.com/bukhari:3818)، <sup>7</sup> [صحیح مسلم 2435a](https://sunnah.com/muslim:2435a)، <sup>8</sup> [صحیح البخاری 2731](https://sunnah.com/bukhari:2731)، <sup>9</sup> [قرآن 16:97](https://quran.com/16/97)۔

# بیوی کی ذمہ داریاں

نکاح کے بعد ایک عورت ایک نئے گھر کی روشنی بن کر آتی ہے۔ اس گھر کو سنبھالنا اس کے لیے بہت عزت کی بات ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے۔"<sup>[1](https://sunnah.com/bukhari:5200)</sup> نگہبان اس شخص کو کہتے ہیں جس پر کسی قیمتی چیز کے معاملے میں بھروسا کیا جائے۔ یعنی گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کوئی چھوٹا کام نہیں، بلکہ ایک امانت ہے جو اللہ نے بیوی کے ہاتھوں میں دی ہے۔

## بچوں پر پیار، گھر پر دھیان

اس امانت کے دو خوبصورت پہلو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں بتائے ہیں۔ آپ نے اپنے زمانے کی عورتوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: "قریش کی نیک عورتیں اپنے چھوٹے بچوں پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں، اور اپنے شوہر کے مال کا سب سے اچھا خیال رکھتی ہیں۔"<sup>[2](https://sunnah.com/bukhari:5365)</sup> پہلی خوبی ہے بچوں کے ساتھ پیار اور نرمی۔ بچپن میں ماں کا پیار ہی بچوں کی سب سے بڑی تعلیم ہوتا ہے۔ دوسری خوبی ہے گھر کے مال کا خیال، یعنی جو کچھ گھر میں آئے اسے سمجھداری سے خرچ کیا جائے۔ شوہر باہر محنت کرتا ہے اور بیوی گھر کو سنبھالتی ہے، اور دونوں کی کوشش سے ہی گھر آگے بڑھتا ہے۔

گھر کے مال کا خیال رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ دل تنگ ہو جائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے خوشی سے کچھ دے، اور گھر کا نقصان نہ کرے، تو اسے بھی اس کے شوہر جیسا ثواب ملتا ہے۔ اسے اس کی اچھی نیت کا ثواب ملتا ہے۔"<sup>[3](https://sunnah.com/tirmidhi:672)</sup> یہ بات ان چھوٹی چیزوں کی ہے جن کے بارے میں بیوی جانتی ہے کہ شوہر کو برا نہیں لگے گا، جیسے کسی ضرورت مند کو کھانا دے دینا۔<sup>[4](https://shamela.ws/book/1673/5386)</sup> دیکھیے، شوہر کماتا ہے، بیوی دل سے دیتی ہے، اور اللہ دونوں کو ثواب دیتا ہے۔

## بھروسے کا رشتہ

گھر کی نگہبانی میں یہ بھی آتا ہے کہ بیوی شوہر کی پسند کا خیال رکھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عورت "اس کے گھر میں کسی کو اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دے۔"<sup>[5](https://sunnah.com/bukhari:5195)</sup> اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مہمان کے لیے الگ سے پوچھا جائے۔ اگر بیوی کو معلوم ہے کہ شوہر کو کسی کے آنے سے کوئی اعتراض نہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔<sup>[6](https://shamela.ws/book/1673/5385)</sup> بات صرف اتنی ہے کہ گھر دونوں کا ہے، اور ایک دوسرے کی پسند کے ساتھ چلنے سے بھروسا بڑھتا ہے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے ایک اور بات فرمائی: "عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں رمضان کے علاوہ کوئی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔"<sup>[7](https://sunnah.com/abudawud:2458),[8](https://sunnah.com/bukhari:5192)</sup> یہ حکم رمضان یا فرض روزے کا نہیں، بلکہ نفلی روزے کا ہے، اور اس وقت کا ہے جب شوہر گھر پر ہو۔ اگر شوہر سفر پر ہو تو بیوی نفلی روزہ رکھ سکتی ہے۔<sup>[6](https://shamela.ws/book/1673/5385)</sup> اس کی حکمت یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ کا خیال رکھیں۔ اور یہ بات صرف بیوی کے لیے نہیں۔ ایک صحابی دن بھر روزے رکھتے تھے، تو نبی ﷺ نے انہیں بھی سمجھایا کہ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔<sup>[9](https://sunnah.com/bukhari:5199)</sup> یعنی عبادت کا شوق اپنی جگہ، اور ایک دوسرے کا حق اپنی جگہ۔

جب بیوی یہ سب اللہ کے لیے کرتی ہے، تو اس کے گھر کے چھوٹے چھوٹے کام بھی اللہ کے یہاں بڑے بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر بیوی کو اپنے گھر کی یہ امانت خوشی سے سنبھالنے کی توفیق دے اور اس کی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین۔

---

**حوالہ جات:** <sup>1</sup> [صحیح البخاری 5200](https://sunnah.com/bukhari:5200)، <sup>2</sup> [صحیح البخاری 5365](https://sunnah.com/bukhari:5365)، <sup>3</sup> [جامع ترمذی 672](https://sunnah.com/tirmidhi:672)، <sup>4</sup> [فتح الباری 9/297](https://shamela.ws/book/1673/5386)، <sup>5</sup> [صحیح البخاری 5195](https://sunnah.com/bukhari:5195)، <sup>6</sup> [فتح الباری 9/296](https://shamela.ws/book/1673/5385)، <sup>7</sup> [سنن ابی داود 2458](https://sunnah.com/abudawud:2458)، <sup>8</sup> [صحیح البخاری 5192](https://sunnah.com/bukhari:5192)، <sup>9</sup> [صحیح البخاری 5199](https://sunnah.com/bukhari:5199)۔

# جن باتوں سے رشتے کو بچانا ہے

جس چیز سے ہم محبت کرتے ہیں، اس کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ میاں بیوی کا رشتہ بھی ایسا ہی ہے، اور اس کی قدر شیطان بھی جانتا ہے۔ نبی ﷺ نے بتایا کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے اور اپنے لشکر لوگوں کو بہکانے بھیجتا ہے۔ ان میں سے کوئی آ کر اپنا کام بتاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی۔ تب ابلیس اسے اپنے پاس بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم نے بہت اچھا کیا۔<sup>[1](https://sunnah.com/muslim:2813b)</sup> اس سے پتا چلتا ہے کہ ایک اچھا رشتہ کتنی بڑی نعمت ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے شوہر اور بیوی دونوں کو کچھ باتوں سے پہلے ہی خبردار کر دیا، تاکہ ان کا گھر محفوظ رہے۔

## شوہر کے لیے

مرد کی سب سے پہلی ذمہ داری اس کے گھر والوں کا خرچ ہے، اس لیے نبی ﷺ نے اس پر خاص دھیان دلایا: "آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان کا خیال نہ رکھے جن کا خرچ اس کے ذمے ہے۔"<sup>[2](https://sunnah.com/abudawud:1692)</sup> یہ اس مرد کی بات ہے جو دے سکتا ہے اور پھر بھی دھیان نہیں دیتا۔ جس کے ہاتھ تنگ ہوں، اس کے لیے اللہ نے پہلے ہی آسانی رکھی ہے۔

دوسری بات غصے کی ہے۔ تھکن اور پریشانی میں غصہ آ سکتا ہے، لیکن اسے بیوی پر نکالنا اچھے مرد کی پہچان نہیں۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ نبی ﷺ نے کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔<sup>[3](https://sunnah.com/muslim:2328a)</sup> اور جب کچھ عورتوں نے اپنے شوہر کی شکایت کی کہ وہ انہیں مارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: "ایسے مرد تم میں اچھے لوگ نہیں ہیں۔"<sup>[4](https://sunnah.com/abudawud:2146)</sup> یعنی جو مرد نبی ﷺ کے طریقے پر چلنا چاہتا ہے، اس کا ہاتھ اور اس کی زبان دونوں بیوی کے لیے نرم ہوتے ہیں۔

تیسری بات وقت کی ہے۔ کام، دوستوں اور عبادت کے بیچ کبھی بیوی پیچھے رہ جاتی ہے، اور اسے پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ کتنی اکیلی ہو گئی۔ نبی ﷺ نے یاد دلایا: "تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔"<sup>[5](https://sunnah.com/bukhari:5199)</sup> تھوڑا سا وقت، تھوڑی سی بات چیت، یہ اس حق کا بھی حصہ ہے۔

## بیوی کے لیے

اسی طرح نبی ﷺ نے عورتوں کو بھی کچھ باتوں سے خبردار کیا۔ ایک بار سورج گرہن کی نماز کے بعد آپ نے ناشکری سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا: "اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر اچھا کرو، اور پھر وہ تمہاری طرف سے کوئی ناپسند بات دیکھے، تو کہہ دے گی: میں نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔"<sup>[6](https://sunnah.com/bukhari:29),[7](https://sunnah.com/muslim:907)</sup> یہ ایسی بات ہے جو ناراضی میں زبان پر آ جاتی ہے اور شوہر کے دل کو لگتی ہے۔ جب ناراضی کے وقت بھی اس کی اچھائیاں یاد رہیں، تو چھوٹی سی بات بڑی نہیں بنتی۔

دوسری بات میاں بیوی کے رشتے کی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے، اور شوہر رات بھر اس سے ناراض رہے، تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔"<sup>[8](https://sunnah.com/bukhari:3237)</sup> یہ سخت الفاظ اس رشتے کی اہمیت بتاتے ہیں۔ لیکن یہ حکم اس وقت کا ہے جب کوئی صحیح وجہ نہ ہو، جیسے بیماری۔<sup>[9](https://sunnah.com/riyadussalihin:1749)</sup> اگر شوہر ناراض نہیں ہوتا، تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے بیوی کی بات سمجھ لی یا اپنا حق چھوڑ دیا، اور پھر یہ بات نہیں رہتی۔<sup>[10](https://shamela.ws/book/1673/5383)</sup> اور اگر شوہر نے خود بیوی پر ظلم کر کے دوری پیدا کی ہو، تو اس کا الزام بیوی پر نہیں آتا۔<sup>[10](https://shamela.ws/book/1673/5383)</sup> شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی خوشی اور حالت کو سمجھ کر چلیں، تو ایسی نوبت کم ہی آتی ہے۔

تیسری بات طلاق کی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو عورت کسی سخت وجہ کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق مانگے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔"<sup>[11](https://sunnah.com/ibnmajah:2055),[12](https://sunnah.com/abudawud:2226)</sup> اس میں "سخت وجہ کے بغیر" کے الفاظ بہت اہم ہیں۔ یعنی جس عورت کو سچ میں نقصان یا مشکل ہو، اس پر یہ بات لاگو نہیں ہوتی۔ یہ نصیحت اس گھڑی کے لیے ہے جب غصے میں ایسی بات منہ سے نکل جائے جو دل میں نہیں ہوتی۔

## دونوں کے لیے

کچھ باتیں دونوں کے کام کی ہیں۔ گھر کی بات گھر میں رہے، اور کوئی باہر والا اس رشتے کو خراب نہ کرنے پائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف بھڑکائے، وہ ہم میں سے نہیں۔"<sup>[13](https://sunnah.com/abudawud:2175)</sup> اور ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرنا بھی نہ بھولیے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔"<sup>[14](https://sunnah.com/abudawud:4811)</sup> روز کے چھوٹے کاموں پر ایک پیارا سا شکریہ رشتے کو تازہ رکھتا ہے۔

غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے، اور ایک دوسرے کو معاف کرنے سے ہی رشتہ آگے بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر گھر کو شیطان کے بہکاوے سے بچائے، اور میاں بیوی کے درمیان محبت اور رحمت کو بڑھاتا رہے۔ آمین۔

---

**حوالہ جات:** <sup>1</sup> [صحیح مسلم 2813b](https://sunnah.com/muslim:2813b)، <sup>2</sup> [سنن ابی داود 1692](https://sunnah.com/abudawud:1692)، <sup>3</sup> [صحیح مسلم 2328a](https://sunnah.com/muslim:2328a)، <sup>4</sup> [سنن ابی داود 2146](https://sunnah.com/abudawud:2146)، <sup>5</sup> [صحیح البخاری 5199](https://sunnah.com/bukhari:5199)، <sup>6</sup> [صحیح البخاری 29](https://sunnah.com/bukhari:29)، <sup>7</sup> [صحیح مسلم 907](https://sunnah.com/muslim:907)، <sup>8</sup> [صحیح البخاری 3237](https://sunnah.com/bukhari:3237)، <sup>9</sup> [ریاض الصالحین 1749](https://sunnah.com/riyadussalihin:1749)، <sup>10</sup> [فتح الباری 9/294](https://shamela.ws/book/1673/5383)، <sup>11</sup> [سنن ابن ماجہ 2055](https://sunnah.com/ibnmajah:2055)، <sup>12</sup> [سنن ابی داود 2226](https://sunnah.com/abudawud:2226)، <sup>13</sup> [سنن ابی داود 2175](https://sunnah.com/abudawud:2175)، <sup>14</sup> [سنن ابی داود 4811](https://sunnah.com/abudawud:4811)۔

# گھر کا ذمہ دار، بات ماننا اور اس کی حد

ہر گھر کو چلانے کے لیے کوئی نہ کوئی ذمہ دار چاہیے ہوتا ہے، جو فیصلے کا بوجھ بھی اٹھائے اور گھر کی فکر بھی کرے۔ قرآن نے یہ ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے: "مرد عورتوں کے ذمہ دار ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے کچھ کو کچھ پر فضیلت دی ہے، اور اس وجہ سے کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔"<sup>[1](https://quran.com/4/34)</sup> اس آیت میں "قوّام" کا لفظ آیا ہے، جس کا مطلب ہے وہ جو گھر کا سربراہ ہو، اس کی دیکھ بھال کرے اور اس کا خرچ اٹھائے۔<sup>[2](https://quran.com/4:34/tafsirs/en-tafisr-ibn-kathir)</sup> یہی وہ درجہ ہے جس کا ذکر ایک اور آیت میں ہے: "اور عورتوں کے بھی بھلے طریقے سے ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں، اور مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔"<sup>[3](https://quran.com/2/228)</sup> دیکھیے، مرد کا درجہ اور عورت کا حق ایک ہی آیت میں ساتھ ساتھ آئے ہیں۔ اس لیے قوّام ہونا بیوی کے حق کو ختم نہیں کرتا، بلکہ مرد کی ذمہ داری کو بڑھا دیتا ہے۔

## بات ماننا اور اس کی حد

اسی آیت میں آگے نیک عورتوں کا ذکر ہے: "تو نیک عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں، اور شوہر کے پیچھے اللہ کی حفاظت سے وہ حفاظت کرتی ہیں جس کی حفاظت کا حکم ہے۔"<sup>[1](https://quran.com/4/34)</sup> جب گھر میں ایک ذمہ دار ہو، تو اس کی بات کا مان رکھنا گھر کو سکون دیتا ہے۔ لیکن اس بات کی ایک صاف حد ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "گناہ کے کام میں کوئی بات نہیں مانی جاتی۔ بات صرف بھلائی کے کاموں میں مانی جاتی ہے۔"<sup>[4](https://sunnah.com/bukhari:7257)</sup> یعنی اگر کوئی شوہر ایسی بات کہے جس سے اللہ ناراض ہوتا ہو، تو بیوی پر اسے ماننا ضروری نہیں۔

ہر عورت کا اپنا رشتہ اللہ سے ہے، اور اس کے لیے اس کا جواب وہ خود دے گی۔ قرآن نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال دی ہے، جنہوں نے دعا کی: "اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے بچا لے۔"<sup>[5](https://quran.com/66/11)</sup> یہ بہت بڑی مثال ہے، لیکن اس سے ایک اصول سمجھ آتا ہے۔ شوہر کا مان اپنی جگہ، اور اللہ کا حکم سب سے اوپر۔ اسی طرح عورت کی عبادت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "اگر تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے، تو وہ اسے نہ روکے۔"<sup>[6](https://sunnah.com/bukhari:5238)</sup> اور عورتوں سے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی مسجد آئے، تو خوشبو نہ لگائے۔"<sup>[7](https://sunnah.com/muslim:443b)</sup>

## جب بات بہت بگڑ جائے

اللہ کرے یہ دن کسی گھر میں نہ آئے، لیکن قرآن نے اس مشکل وقت کا بھی راستہ بتایا ہے جب بیوی رشتے سے سرکشی پر اتر آئے: "اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا ڈر ہو، انہیں سمجھاؤ، پھر انہیں بستر میں الگ چھوڑ دو، اور انہیں مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں، تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ بے شک اللہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔"<sup>[1](https://quran.com/4/34)</sup> اس آیت کو نبی ﷺ کی باتوں کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ پہلا قدم سمجھانا ہے، دوسرا الگ سونا، اور مارنے کا ذکر سب سے آخر میں آیا ہے۔

یہ اجازت کس وجہ سے ہے، یہ سمجھنا سب سے ضروری ہے۔ آیت میں اس کی وجہ سرکشی بتائی گئی ہے، یعنی بیوی کا رشتے کے خلاف کھل کر کھڑا ہو جانا۔ نبی ﷺ نے اپنے آخری حج کے خطبے میں اس کی وضاحت فرمائی۔ آپ نے کھلی ہوئی بری حرکت کا ذکر کیا، اور یہ کہ بیوی شوہر کے بستر پر کسی ایسے شخص کو جگہ دے جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔<sup>[8](https://sunnah.com/muslim:1218a),[9](https://sunnah.com/tirmidhi:1163)</sup> قرآن کی اس آیت اور ان حدیثوں میں صرف یہی وجہ بتائی گئی ہے۔ اس لیے غصہ نکالنے کے لیے، گھر کے کام کی کمی پر، کسی بات پر اختلاف ہونے پر یا عادت کے طور پر مارنا اس اجازت میں شامل نہیں۔

اس وجہ کے ہوتے ہوئے بھی نبی ﷺ نے اس کی حد بتا دی۔ آپ نے فرمایا کہ ایسا مارو جو سخت نہ ہو، جس سے نہ چوٹ لگے اور نہ نشان پڑے<sup>[10](https://sunnah.com/ibnmajah:1851)</sup>، اور آپ نے چہرے پر مارنے سے بھی منع کیا۔<sup>[11](https://sunnah.com/abudawud:2142)</sup> اور جب بیوی سرکشی چھوڑ دے، تو آیت کہتی ہے کہ اس کے خلاف کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ آیت کا آخری حصہ مرد کو یاد دلاتا ہے کہ اگر اس نے بیوی پر ظلم کیا، تو اللہ اس سے بہت بڑا ہے۔<sup>[2](https://quran.com/4:34/tafsirs/en-tafisr-ibn-kathir)</sup>

اور اس معاملے میں ہمارے لیے سب سے بڑی مثال خود رسول اللہ ﷺ ہیں۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ آپ نے کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔<sup>[12](https://sunnah.com/muslim:2328a)</sup> آپ کے گھر میں بھی مشکل دن آئے، اور آپ کی بیویوں سے بھی ایسی باتیں ہوئیں جو اچھی نہ لگیں<sup>[13](https://sunnah.com/bukhari:5225)</sup>، لیکن آپ نے کبھی کسی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ آپ نے فرمایا: "اللہ کی بندیوں کو نہ مارو۔"<sup>[14](https://sunnah.com/abudawud:2146)</sup> اور مارنے والوں کے بارے میں فرمایا: "ایسے مرد تم میں اچھے لوگ نہیں ہیں۔"<sup>[14](https://sunnah.com/abudawud:2146)</sup> اجازت اپنی جگہ ہے، لیکن بہترین مرد کا طریقہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہے۔ تو جس مرد کو اپنے نبی ﷺ جیسا بننا ہے، اس کے لیے راستہ یہی ہے۔

اگر کسی عورت کو مار پیٹ یا کسی نقصان کا سامنا ہو، تو اس آیت کو اپنا بوجھ نہ سمجھے۔ وہ اپنے گھر کے بڑے، کسی بھروسے مند عالم یا مدد کرنے والے لوگوں سے فوراً بات کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو نرمی اور انصاف سے بھر دے، اور ہر شوہر کو اپنی ذمہ داری نبی ﷺ کے طریقے پر نبھانے کی توفیق دے۔ آمین۔

---

**حوالہ جات:** <sup>1</sup> [قرآن 4:34](https://quran.com/4/34)، <sup>2</sup> [تفسیر ابن کثیر 4:34](https://quran.com/4:34/tafsirs/en-tafisr-ibn-kathir)، <sup>3</sup> [قرآن 2:228](https://quran.com/2/228)، <sup>4</sup> [صحیح البخاری 7257](https://sunnah.com/bukhari:7257)، <sup>5</sup> [قرآن 66:11](https://quran.com/66/11)، <sup>6</sup> [صحیح البخاری 5238](https://sunnah.com/bukhari:5238)، <sup>7</sup> [صحیح مسلم 443b](https://sunnah.com/muslim:443b)، <sup>8</sup> [صحیح مسلم 1218a](https://sunnah.com/muslim:1218a)، <sup>9</sup> [جامع ترمذی 1163](https://sunnah.com/tirmidhi:1163)، <sup>10</sup> [سنن ابن ماجہ 1851](https://sunnah.com/ibnmajah:1851)، <sup>11</sup> [سنن ابی داود 2142](https://sunnah.com/abudawud:2142)، <sup>12</sup> [صحیح مسلم 2328a](https://sunnah.com/muslim:2328a)، <sup>13</sup> [صحیح البخاری 5225](https://sunnah.com/bukhari:5225)، <sup>14</sup> [سنن ابی داود 2146](https://sunnah.com/abudawud:2146)۔

# جب رشتہ مشکل ہو جائے

ہر رشتے میں کبھی نہ کبھی مشکل دن آتے ہیں۔ دو الگ انسان جب ساتھ رہتے ہیں تو کبھی بات بگڑ بھی جاتی ہے، اور اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ قرآن نے ایسے وقت کے لیے بھی رہنمائی دی ہے، اور اس کی شروعات صبر سے ہوتی ہے۔ مرد سے کہا گیا: "اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں، تو ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی رکھ دے۔"<sup>[1](https://quran.com/4/19)</sup> جس بات سے آج دل دکھا ہے، ہو سکتا ہے اسی رشتے میں اللہ نے کل کے لیے بہت سی خوشی رکھی ہو۔ اس لیے مشکل وقت میں پہلا قدم جلدی کا نہیں، ٹھہر کر سوچنے کا ہے۔

## آپس میں صلح

ٹھہر کر سوچنے کے بعد بات چیت کا راستہ ہے۔ قرآن عورت کی طرف سے اس بات کو یوں بیان کرتا ہے: "اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا ڈر ہو، تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے۔"<sup>[2](https://quran.com/4/128)</sup> یعنی بیوی بھی اپنی پریشانی کہہ سکتی ہے، اور دونوں مل کر کوئی راستہ نکال سکتے ہیں۔ اسی آیت میں آگے کہا گیا: "اور اگر تم اچھا برتاؤ کرو اور اللہ سے ڈرو، تو اللہ تمہارے کاموں سے خوب واقف ہے۔"<sup>[2](https://quran.com/4/128)</sup> صلح میں کبھی کسی کو تھوڑا جھکنا بھی پڑتا ہے، اور جو اللہ کے لیے جھکتا ہے، اس کی یہ کوشش اللہ کے سامنے ہے۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دو لوگ اکیلے بات نہیں سلجھا پاتے۔ اس کے لیے قرآن نے ایک بہت سمجھداری کا طریقہ بتایا ہے: "اور اگر تمہیں دونوں کے درمیان جھگڑے کا ڈر ہو، تو ایک فیصلہ کرنے والا مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے بھیجو۔ اگر یہ دونوں صلح چاہیں گے تو اللہ ان دونوں کے درمیان ملاپ پیدا کر دے گا۔"<sup>[3](https://quran.com/4/35)</sup> دونوں طرف سے ایک ایک سمجھدار انسان ہو، جو دونوں کی بات سنے اور جس کا مقصد صلح ہو۔ اور اللہ کا وعدہ ہے کہ جب نیت صلح کی ہو، تو وہ مدد کرتا ہے۔

## اگر ساتھ رہنا ممکن نہ رہے

پوری کوشش کے بعد بھی کبھی ساتھ رہنا ممکن نہیں رہتا۔ اسلام نے ایسے وقت کے لیے بھی عزت کا راستہ رکھا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "تو یا تو بھلے طریقے سے رکھو، یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔"<sup>[4](https://quran.com/2/229)</sup> اور یہ بھی کہا: "اور انہیں نقصان پہنچانے کے لیے نہ روکو، تاکہ ان پر ظلم کرو۔ جو ایسا کرے گا، اس نے اپنے اوپر ہی ظلم کیا۔"<sup>[5](https://quran.com/2/231)</sup> عورت کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ صحیح وجہ ہو تو وہ الگ ہونے کی درخواست کرے۔ حضرت ثابت بن قیس کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: "اے اللہ کے رسول، میں ثابت کے اخلاق یا دین میں کوئی عیب نہیں نکالتی، لیکن میں مسلمان ہوتے ہوئے یہ پسند نہیں کرتی کہ ان کے ساتھ رہ کر اسلام کے خلاف برتاؤ کر بیٹھوں۔" آپ نے پوچھا: "کیا تم ان کا باغ واپس کر دو گی؟" انہوں نے کہا: "جی ہاں۔" تو آپ نے حضرت ثابت سے فرمایا: "اپنا باغ لے لو اور انہیں ایک طلاق دے دو۔"<sup>[6](https://sunnah.com/bukhari:5273)</sup> دیکھیے، اس خاتون نے نہ ان کی برائی کی، نہ کوئی تماشا ہوا۔ نبی ﷺ نے اس کی بات سنی اور مسئلہ عزت کے ساتھ حل کر دیا۔

ایسے معاملوں کے اپنے مسائل ہیں، اس لیے فیصلہ غصے میں نہیں، بلکہ کسی بھروسے مند عالم سے پوچھ کر کیا جائے۔ اور اگر کسی کو مار پیٹ یا کسی نقصان کا سامنا ہو، تو وہ دیر نہ کرے اور اپنے گھر کے بڑے لوگوں یا مدد کرنے والوں سے فوراً بات کرے۔ اور جس وقت رشتے الگ بھی ہو رہے ہوں، اس وقت بھی قرآن یہ کہتا ہے: "اور آپس کی بھلائی کو نہ بھولو۔"<sup>[7](https://quran.com/2/237)</sup>

مشکل چاہے جتنی بڑی لگے، اللہ کا یہ وعدہ یاد رہے: "اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستہ نکال دیتا ہے۔"<sup>[8](https://quran.com/65/2)</sup> اللہ تعالیٰ ہر گھر کی مشکل آسان کرے، اور میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے سکون اور رحمت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

---

**حوالہ جات:** <sup>1</sup> [قرآن 4:19](https://quran.com/4/19)، <sup>2</sup> [قرآن 4:128](https://quran.com/4/128)، <sup>3</sup> [قرآن 4:35](https://quran.com/4/35)، <sup>4</sup> [قرآن 2:229](https://quran.com/2/229)، <sup>5</sup> [قرآن 2:231](https://quran.com/2/231)، <sup>6</sup> [صحیح البخاری 5273](https://sunnah.com/bukhari:5273)، <sup>7</sup> [قرآن 2:237](https://quran.com/2/237)، <sup>8</sup> [قرآن 65:2](https://quran.com/65/2)۔