اچھے شوہر کی خوبیاں

ہر اچھا شوہر چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ خوش رہے۔ اس راستے پر نبی ﷺ سے بہتر رہنما کوئی نہیں، کیونکہ آپ نے خود اپنے گھر میں یہ کر کے دکھایا۔ آپ نے فرمایا: "تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہو، اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہوں۔"1 یعنی ایک مرد کی اچھائی کی پہچان اس کے گھر سے ہوتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ اپنے گھر میں کیسے تھے۔

گھر میں ساتھ دینا

کسی نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا: "آپ گھر والوں کے کام میں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لیے چلے جاتے تھے۔"2 اللہ کے رسول، امت کے رہنما، اور پھر بھی گھر کے کام میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ جب کوئی شوہر تھکن کے بعد بھی بیوی کا کام ہلکا کر دیتا ہے، تو وہ نبی ﷺ کی ایک سنت پر عمل کر رہا ہوتا ہے، اور بیوی کے دل میں اس کی جگہ اور بڑھ جاتی ہے۔

گھر کا ساتھ صرف کام تک نہیں تھا۔ آپ اپنی بیوی کے ساتھ ہنستے کھیلتے بھی تھے۔ حضرت عائشہ ایک سفر کا واقعہ بتاتی ہیں: "میں نے آپ ﷺ سے دوڑ لگائی اور میں آگے نکل گئی۔ پھر جب میرا وزن بڑھ گیا اور میں نے دوڑ لگائی تو آپ آگے نکل گئے، اور فرمایا: یہ اس جیت کا بدلہ ہے۔"3 سوچا جائے تو یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے، لیکن حضرت عائشہ نے اسے یاد رکھا اور لوگوں کو بتایا۔ بیوی کے ساتھ گزارا ہوا ایسا ہلکا پھلکا وقت بھی رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔

دل کا حال سمجھنا

اسی ساتھ سے ایک دوسرے کو سمجھنا بھی آتا ہے۔ نبی ﷺ نے ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا: "مجھے پتا چل جاتا ہے کہ کب تم مجھ سے خوش ہو اور کب ناراض۔" انہوں نے پوچھا کیسے؟ آپ نے فرمایا کہ جب تم خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو "محمد کے رب کی قسم"، اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو "ابراہیم کے رب کی قسم"۔ انہوں نے کہا: "جی ہاں، اللہ کی قسم، میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔"4 آپ ﷺ بیوی کے اتنے چھوٹے سے اشارے کو بھی پہچان لیتے تھے۔ اچھا شوہر بھی ایسے ہی بیوی کی بات کے ساتھ اس کا لہجہ اور اس کی خاموشی بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ خیال ان دنوں میں اور بھی بڑھ جاتا تھا جب بیوی کو اپنے پن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں: "میں ماہواری کی حالت میں پیتی، پھر برتن نبی ﷺ کو دیتی، تو آپ اسی جگہ منہ رکھ کر پیتے جہاں سے میں نے پیا تھا۔"5 ان دنوں میں بھی بیوی کے ساتھ وہی قربت اور وہی عزت، یہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا۔

گھر میں کبھی کبھی ایسی بات بھی ہو جاتی ہے جو اچھی نہ لگے۔ دیکھیے، نبی ﷺ نے ایسے موقع پر کیا کیا۔ ایک بار آپ اپنی ایک بیوی کے گھر تھے کہ دوسری بیوی نے کھانا بھیجا۔ جس بیوی کا گھر تھا، اس نے کھانا لانے والے کے ہاتھ پر مارا اور برتن گر کر ٹوٹ گیا۔ آپ نے برتن کے ٹکڑے جمع کیے، کھانا سمیٹ کر فرمایا: "تمہاری ماں کو جلن ہو گئی۔" پھر اسی گھر سے صحیح برتن منگوا کر اس بیوی کو بھجوا دیا جس کا برتن ٹوٹا تھا۔6 اس روایت میں نہ ڈانٹ کا ذکر ہے، نہ ذلت کا۔ نقصان کا انصاف بھی ہو گیا اور گھر کا سکون بھی بچا رہا۔

اسی نرمی کا راز آپ ﷺ نے ایک چھوٹی سی بات میں بتا دیا: "کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت نہ کرے۔ اگر اس کی ایک عادت اسے ناپسند ہے، تو دوسری عادت پسند آئے گی۔"7 جب نظر خوبیوں پر رہتی ہے تو وہی بیوی ہر دن ایک نعمت لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شوہر کو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا بننے کی توفیق دے۔ آمین۔


حوالہ جات: 1 جامع ترمذی 3895، 2 صحیح البخاری 676، 3 سنن ابی داود 2578، 4 صحیح البخاری 5228، 5 صحیح مسلم 300، 6 صحیح البخاری 5225، 7 صحیح مسلم 1468b۔


Revision #1
Created 2026-11-03 06:56:46 UTC by Danish Nayeem
Updated 2026-11-03 06:56:47 UTC by Danish Nayeem