میاں بیوی کے حق: دونوں طرف کی ذمہ داری ہر جوڑے کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کا رشتہ دن بہ دن اور خوبصورت ہوتا جائے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس رشتے کا ذکر قرآن میں کیا ہے، اور بتایا ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں کا ایک دوسرے پر حق ہے: "اور عورتوں کے بھی بھلے طریقے سے ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں۔"1 حق کا لفظ سن کر کبھی لگتا ہے کہ یہ کوئی سخت سی بات ہوگی۔ لیکن گھر میں اس کا مطلب بس اتنا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی ضرورت اور خوشی کو اپنی ذمہ داری سمجھ لیں۔ شوہر بیوی کا خیال رکھے، بیوی شوہر کا، اور دونوں یہ کام اللہ کو خوش کرنے کے لیے کریں۔ ایک امانت اس رشتے کی قدر کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے آخری حج کے خطبے میں بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: "عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امان میں لیا ہے۔"2 یعنی نکاح کے بعد بیوی شوہر کے پاس اللہ کی امانت ہوتی ہے۔ جب یہ بات شوہر کے دل میں بیٹھ جاتی ہے، تو اس کی باتوں اور اس کے برتاؤ میں خود ہی نرمی آ جاتی ہے۔ اسی خطبے کی ایک روایت میں آپ ﷺ نے دونوں کا ذکر ایک ساتھ کیا: "سنو! تمہارے اپنی بیویوں پر حق ہیں، اور تمہاری بیویوں کے تم پر حق ہیں۔"3 پھر آپ نے دونوں کے حق کی مثال بھی دی۔ بیوی گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دے جو شوہر کو پسند نہ ہو، اور شوہر بیوی کے کھانے اور کپڑے کا اچھے سے خیال رکھے۔3 یہ گھر کی روز کی باتیں ہیں، اور انہی سے ایک دوسرے پر بھروسا بنتا ہے۔ کھانے کی بات آئی ہے تو ایک پیاری حدیث بھی سن لیجیے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم اللہ کی رضا کے لیے جو کچھ خرچ کرو، اس پر تمہیں ثواب ملے گا، یہاں تک کہ اس نوالے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔"4 ایک نوالہ کتنی چھوٹی سی چیز ہے، پھر بھی اللہ کے یہاں اس کا ثواب ہے۔ تو جو شوہر اپنی بیوی کی ضرورت پوری کرتا ہے، وہ صرف ایک ذمہ داری ادا نہیں کر رہا، بلکہ ثواب بھی کما رہا ہے۔ اسی طرح بیوی بھی گھر میں ایک بڑی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا۔"5 اس حدیث میں دونوں کے لیے ایک ہی لفظ آیا ہے۔ گھر دونوں کی محنت سے بنتا ہے، اور دونوں کی محنت اللہ کے سامنے ہے۔ اس ذمہ داری کا سب سے خوبصورت حصہ آپس کا برتاؤ ہے۔ قرآن کہتا ہے: "اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے رہو۔"6 اس میں اچھی بات کرنا، نرمی سے پیش آنا، اور اپنا رنگ روپ بھی ایسا رکھنا شامل ہے جو بیوی کو اچھا لگے، جیسے مرد اپنے لیے یہی چاہتا ہے۔7 ایک دوسرے کے لیے اچھا دکھنا بھی محبت کا ایک پیارا اظہار ہے۔ ساتھ ساتھ اللہ کی طرف جب گھر میں ایسی نرمی آ جاتی ہے، تو شوہر بیوی دین میں بھی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے لگتے ہیں۔ نبی ﷺ نے ایسے جوڑے کے لیے دعا فرمائی: "اللہ اس مرد پر رحم کرے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو جگائے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی چھڑکے۔ اللہ اس عورت پر رحم کرے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو جگائے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی چھڑکے۔"8 دیکھیے، دعا دونوں کے لیے ایک جیسی ہے۔ جو پہلے جاگ جائے، وہ دوسرے کو بھی ساتھ لے لے۔ اور عبادت کا شوق گھر سے دور نہیں لے جاتا۔ ایک صحابی دن بھر روزے رکھتے اور رات بھر نماز پڑھتے تھے۔ نبی ﷺ نے انہیں سمجھایا: "تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے، اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے۔"9 یعنی بیوی کے ساتھ وقت گزارنا بھی دین کا ہی حصہ ہے۔ جب شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا خیال اللہ کے لیے رکھنے لگتے ہیں، تو چھوٹے چھوٹے کام بھی عبادت بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے لیے سکون اور خوشی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔ حوالہ جات: 1 قرآن 2:228، 2 صحیح مسلم 1218a، 3 جامع ترمذی 1163، 4 صحیح البخاری 56، 5 صحیح البخاری 2554، 6 قرآن 4:19، 7 تفسیر ابن کثیر 4:19، 8 سنن ابی داود 1308، 9 صحیح البخاری 5199۔