نیک بیوی کی خوبیاں
ہر اچھی بیوی چاہتی ہے کہ اس کا گھر سکون کا گھر ہو اور اس کا شوہر اس کے ساتھ خوش رہے۔ اس چاہت کی اسلام میں بہت قدر ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "یہ دنیا فائدہ اٹھانے کی جگہ ہے، اور دنیا کی سب سے بہتر نعمت نیک عورت ہے۔"1 دیکھیے، دنیا میں کتنی چیزیں ہیں جن کے پیچھے لوگ بھاگتے ہیں، لیکن نبی ﷺ نے سب سے بہتر ایک نیک عورت کو کہا۔ یہ اس عورت کا مرتبہ ہے جو اپنے گھر کو اپنی اچھائی سے روشن رکھتی ہے۔
جنت کا آسان راستہ
اس مرتبے تک پہنچنے کے لیے کوئی بہت مشکل کام نہیں چاہیے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب عورت اپنی پانچ وقت کی نماز پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی عزت کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی بات مانے، تو جنت کے جس دروازے سے چاہے اندر چلی جائے۔"2 یہ وہی کام ہیں جو ایک مسلمان عورت اپنی روز کی زندگی میں کرتی ہے۔ اللہ نے انہی پر اتنا بڑا انعام رکھ دیا ہے۔ اور شوہر کی بات ماننا بھلائی کے کاموں میں ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے: "بات صرف بھلائی کے کاموں میں مانی جاتی ہے۔"3
ایک بار کسی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ سب سے اچھی عورت کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا: "وہ جو شوہر کے دیکھنے پر اسے خوش کر دے، اس کے کہنے پر اس کی بات مان لے، اور اپنی ذات اور اپنے مال کے بارے میں ایسا کچھ نہ کرے جو اسے ناپسند ہو۔"4 یہاں پہلی بات خوشی کی ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک پیاری بات اور تھوڑا سا سنورنا، یہ چھوٹی چیزیں ہیں، لیکن دن بھر کے تھکے ہوئے شوہر کے لیے یہی گھر کا سکون بن جاتی ہیں۔ جب بیوی اس نیت سے شوہر کو خوش کرتی ہے کہ اللہ راضی ہو، تو یہ بھی اس کے لیے بھلائی کا کام بن جاتا ہے۔
دو روشن مثالیں
نیک بیوی کی سب سے خوبصورت مثال حضرت خدیجہ ہیں۔ جب نبی ﷺ پر پہلی وحی آئی تو آپ گھبرائے ہوئے گھر آئے اور انہیں سب کچھ بتایا، اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ حضرت خدیجہ نے کہا: "ہرگز نہیں! اللہ کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ رشتہ داروں کا خیال رکھتے ہیں، غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرتے ہیں، مہمانوں کی خاطر کرتے ہیں اور مشکل میں پڑنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔"5 انہوں نے اس مشکل گھڑی میں شوہر کو ان کی خوبیاں یاد دلائیں اور پھر انہیں ساتھ لے کر ایک ایسے آدمی کے پاس گئیں جو آسمانی کتابوں کو جانتا تھا۔ شوہر کے مشکل وقت میں اس کے دل کو سنبھالنا کسی بھی بیوی کا بہت بڑا کام ہے۔
اس ساتھ کو نبی ﷺ نے کبھی نہیں بھلایا۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ آپ ان کے انتقال کے بعد بھی اکثر انہیں یاد کرتے، اور جب بکری ذبح کرتے تو اس کا گوشت حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو بھیجتے۔6 اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں جنت میں ایک محل کی خوش خبری دی۔7
دوسری مثال حضرت ام سلمہ کی ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر نبی ﷺ نے صحابہ سے قربانی کرنے اور سر منڈوانے کو کہا۔ آپ نے تین بار فرمایا، لیکن کوئی نہیں اٹھا۔ آپ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے اور انہیں یہ بات بتائی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ کسی سے کچھ نہ کہیں، بس باہر جا کر اپنی قربانی کر لیں اور اپنا سر منڈوا لیں۔ آپ نے ایسا ہی کیا، اور جب صحابہ نے یہ دیکھا تو سب اٹھ کر قربانی کرنے لگے۔8 یعنی نیک بیوی صرف گھر ہی نہیں سنبھالتی، وہ اپنے شوہر کو اچھا مشورہ بھی دیتی ہے، اور نبی ﷺ نے خود اپنی بیوی کے مشورے کو قبول فرمایا۔
آخر میں قرآن کا یہ وعدہ یاد رکھیے: "جو بھی نیک کام کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور اچھی زندگی دیں گے، اور انہیں ان کے بہترین کاموں کا بدلہ دیں گے۔"9 گھر میں کی گئی ہر محنت اور ہر پیار بھری بات اللہ کے سامنے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر بیوی کو اپنے گھر کے لیے سکون اور اپنے شوہر کے لیے سچی ساتھی بنائے۔ آمین۔
حوالہ جات: 1 صحیح مسلم 1467، 2 مشکوٰۃ المصابیح 3254، 3 صحیح البخاری 7257، 4 سنن نسائی 3231، 5 صحیح البخاری 3، 6 صحیح البخاری 3818، 7 صحیح مسلم 2435a، 8 صحیح البخاری 2731، 9 قرآن 16:97۔