Skip to main content

بیوی کی ذمہ داریاں

نکاح کے بعد ایک عورت ایک نئے گھر کی روشنی بن کر آتی ہے۔ اس گھر کو سنبھالنا اس کے لیے بہت عزت کی بات ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے۔"1 نگہبان اس شخص کو کہتے ہیں جس پر کسی قیمتی چیز کے معاملے میں بھروسا کیا جائے۔ یعنی گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کوئی چھوٹا کام نہیں، بلکہ ایک امانت ہے جو اللہ نے بیوی کے ہاتھوں میں دی ہے۔

بچوں پر پیار، گھر پر دھیان

اس امانت کے دو خوبصورت پہلو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں بتائے ہیں۔ آپ نے اپنے زمانے کی عورتوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: "قریش کی نیک عورتیں اپنے چھوٹے بچوں پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں، اور اپنے شوہر کے مال کا سب سے اچھا خیال رکھتی ہیں۔"2 پہلی خوبی ہے بچوں کے ساتھ پیار اور نرمی۔ بچپن میں ماں کا پیار ہی بچوں کی سب سے بڑی تعلیم ہوتا ہے۔ دوسری خوبی ہے گھر کے مال کا خیال، یعنی جو کچھ گھر میں آئے اسے سمجھداری سے خرچ کیا جائے۔ شوہر باہر محنت کرتا ہے اور بیوی گھر کو سنبھالتی ہے، اور دونوں کی کوشش سے ہی گھر آگے بڑھتا ہے۔

گھر کے مال کا خیال رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ دل تنگ ہو جائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے خوشی سے کچھ دے، اور گھر کا نقصان نہ کرے، تو اسے بھی اس کے شوہر جیسا ثواب ملتا ہے۔ اسے اس کی اچھی نیت کا ثواب ملتا ہے۔"3 یہ بات ان چھوٹی چیزوں کی ہے جن کے بارے میں بیوی جانتی ہے کہ شوہر کو برا نہیں لگے گا، جیسے کسی ضرورت مند کو کھانا دے دینا۔4 دیکھیے، شوہر کماتا ہے، بیوی دل سے دیتی ہے، اور اللہ دونوں کو ثواب دیتا ہے۔

بھروسے کا رشتہ

گھر کی نگہبانی میں یہ بھی آتا ہے کہ بیوی شوہر کی پسند کا خیال رکھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عورت "اس کے گھر میں کسی کو اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دے۔"5 اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مہمان کے لیے الگ سے پوچھا جائے۔ اگر بیوی کو معلوم ہے کہ شوہر کو کسی کے آنے سے کوئی اعتراض نہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔6 بات صرف اتنی ہے کہ گھر دونوں کا ہے، اور ایک دوسرے کی پسند کے ساتھ چلنے سے بھروسا بڑھتا ہے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے ایک اور بات فرمائی: "عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں رمضان کے علاوہ کوئی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔"7,8 یہ حکم رمضان یا فرض روزے کا نہیں، بلکہ نفلی روزے کا ہے، اور اس وقت کا ہے جب شوہر گھر پر ہو۔ اگر شوہر سفر پر ہو تو بیوی نفلی روزہ رکھ سکتی ہے۔6 اس کی حکمت یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ کا خیال رکھیں۔ اور یہ بات صرف بیوی کے لیے نہیں۔ ایک صحابی دن بھر روزے رکھتے تھے، تو نبی ﷺ نے انہیں بھی سمجھایا کہ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔9 یعنی عبادت کا شوق اپنی جگہ، اور ایک دوسرے کا حق اپنی جگہ۔

جب بیوی یہ سب اللہ کے لیے کرتی ہے، تو اس کے گھر کے چھوٹے چھوٹے کام بھی اللہ کے یہاں بڑے بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر بیوی کو اپنے گھر کی یہ امانت خوشی سے سنبھالنے کی توفیق دے اور اس کی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین۔


حوالہ جات: 1 صحیح البخاری 5200، 2 صحیح البخاری 5365، 3 جامع ترمذی 672، 4 فتح الباری 9/297، 5 صحیح البخاری 5195، 6 فتح الباری 9/296، 7 سنن ابی داود 2458، 8 صحیح البخاری 5192، 9 صحیح البخاری 5199۔