Skip to main content

جب رشتہ مشکل ہو جائے

ہر رشتے میں کبھی نہ کبھی مشکل دن آتے ہیں۔ دو الگ انسان جب ساتھ رہتے ہیں تو کبھی بات بگڑ بھی جاتی ہے، اور اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ قرآن نے ایسے وقت کے لیے بھی رہنمائی دی ہے، اور اس کی شروعات صبر سے ہوتی ہے۔ مرد سے کہا گیا: "اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں، تو ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی رکھ دے۔"1 جس بات سے آج دل دکھا ہے، ہو سکتا ہے اسی رشتے میں اللہ نے کل کے لیے بہت سی خوشی رکھی ہو۔ اس لیے مشکل وقت میں پہلا قدم جلدی کا نہیں، ٹھہر کر سوچنے کا ہے۔

آپس میں صلح

ٹھہر کر سوچنے کے بعد بات چیت کا راستہ ہے۔ قرآن عورت کی طرف سے اس بات کو یوں بیان کرتا ہے: "اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا ڈر ہو، تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے۔"2 یعنی بیوی بھی اپنی پریشانی کہہ سکتی ہے، اور دونوں مل کر کوئی راستہ نکال سکتے ہیں۔ اسی آیت میں آگے کہا گیا: "اور اگر تم اچھا برتاؤ کرو اور اللہ سے ڈرو، تو اللہ تمہارے کاموں سے خوب واقف ہے۔"2 صلح میں کبھی کسی کو تھوڑا جھکنا بھی پڑتا ہے، اور جو اللہ کے لیے جھکتا ہے، اس کی یہ کوشش اللہ کے سامنے ہے۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دو لوگ اکیلے بات نہیں سلجھا پاتے۔ اس کے لیے قرآن نے ایک بہت سمجھداری کا طریقہ بتایا ہے: "اور اگر تمہیں دونوں کے درمیان جھگڑے کا ڈر ہو، تو ایک فیصلہ کرنے والا مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے بھیجو۔ اگر یہ دونوں صلح چاہیں گے تو اللہ ان دونوں کے درمیان ملاپ پیدا کر دے گا۔"3 دونوں طرف سے ایک ایک سمجھدار انسان ہو، جو دونوں کی بات سنے اور جس کا مقصد صلح ہو۔ اور اللہ کا وعدہ ہے کہ جب نیت صلح کی ہو، تو وہ مدد کرتا ہے۔

اگر ساتھ رہنا ممکن نہ رہے

پوری کوشش کے بعد بھی کبھی ساتھ رہنا ممکن نہیں رہتا۔ اسلام نے ایسے وقت کے لیے بھی عزت کا راستہ رکھا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "تو یا تو بھلے طریقے سے رکھو، یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔"4 اور یہ بھی کہا: "اور انہیں نقصان پہنچانے کے لیے نہ روکو، تاکہ ان پر ظلم کرو۔ جو ایسا کرے گا، اس نے اپنے اوپر ہی ظلم کیا۔"5 عورت کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ صحیح وجہ ہو تو وہ الگ ہونے کی درخواست کرے۔ حضرت ثابت بن قیس کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: "اے اللہ کے رسول، میں ثابت کے اخلاق یا دین میں کوئی عیب نہیں نکالتی، لیکن میں مسلمان ہوتے ہوئے یہ پسند نہیں کرتی کہ ان کے ساتھ رہ کر اسلام کے خلاف برتاؤ کر بیٹھوں۔" آپ نے پوچھا: "کیا تم ان کا باغ واپس کر دو گی؟" انہوں نے کہا: "جی ہاں۔" تو آپ نے حضرت ثابت سے فرمایا: "اپنا باغ لے لو اور انہیں ایک طلاق دے دو۔"6 دیکھیے، اس خاتون نے نہ ان کی برائی کی، نہ کوئی تماشا ہوا۔ نبی ﷺ نے اس کی بات سنی اور مسئلہ عزت کے ساتھ حل کر دیا۔

ایسے معاملوں کے اپنے مسائل ہیں، اس لیے فیصلہ غصے میں نہیں، بلکہ کسی بھروسے مند عالم سے پوچھ کر کیا جائے۔ اور اگر کسی کو مار پیٹ یا کسی نقصان کا سامنا ہو، تو وہ دیر نہ کرے اور اپنے گھر کے بڑے لوگوں یا مدد کرنے والوں سے فوراً بات کرے۔ اور جس وقت رشتے الگ بھی ہو رہے ہوں، اس وقت بھی قرآن یہ کہتا ہے: "اور آپس کی بھلائی کو نہ بھولو۔"7

مشکل چاہے جتنی بڑی لگے، اللہ کا یہ وعدہ یاد رہے: "اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستہ نکال دیتا ہے۔"8 اللہ تعالیٰ ہر گھر کی مشکل آسان کرے، اور میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے سکون اور رحمت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔


حوالہ جات: 1 قرآن 4:19، 2 قرآن 4:128، 3 قرآن 4:35، 4 قرآن 2:229، 5 قرآن 2:231، 6 صحیح البخاری 5273، 7 قرآن 2:237، 8 قرآن 65:2۔