Skip to main content

جن باتوں سے رشتے کو بچانا ہے

جس چیز سے ہم محبت کرتے ہیں، اس کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ میاں بیوی کا رشتہ بھی ایسا ہی ہے، اور اس کی قدر شیطان بھی جانتا ہے۔ نبی ﷺ نے بتایا کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے اور اپنے لشکر لوگوں کو بہکانے بھیجتا ہے۔ ان میں سے کوئی آ کر اپنا کام بتاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی۔ تب ابلیس اسے اپنے پاس بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم نے بہت اچھا کیا۔1 اس سے پتا چلتا ہے کہ ایک اچھا رشتہ کتنی بڑی نعمت ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے شوہر اور بیوی دونوں کو کچھ باتوں سے پہلے ہی خبردار کر دیا، تاکہ ان کا گھر محفوظ رہے۔

شوہر کے لیے

مرد کی سب سے پہلی ذمہ داری اس کے گھر والوں کا خرچ ہے، اس لیے نبی ﷺ نے اس پر خاص دھیان دلایا: "آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان کا خیال نہ رکھے جن کا خرچ اس کے ذمے ہے۔"2 یہ اس مرد کی بات ہے جو دے سکتا ہے اور پھر بھی دھیان نہیں دیتا۔ جس کے ہاتھ تنگ ہوں، اس کے لیے اللہ نے پہلے ہی آسانی رکھی ہے۔

دوسری بات غصے کی ہے۔ تھکن اور پریشانی میں غصہ آ سکتا ہے، لیکن اسے بیوی پر نکالنا اچھے مرد کی پہچان نہیں۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ نبی ﷺ نے کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔3 اور جب کچھ عورتوں نے اپنے شوہر کی شکایت کی کہ وہ انہیں مارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: "ایسے مرد تم میں اچھے لوگ نہیں ہیں۔"4 یعنی جو مرد نبی ﷺ کے طریقے پر چلنا چاہتا ہے، اس کا ہاتھ اور اس کی زبان دونوں بیوی کے لیے نرم ہوتے ہیں۔

تیسری بات وقت کی ہے۔ کام، دوستوں اور عبادت کے بیچ کبھی بیوی پیچھے رہ جاتی ہے، اور اسے پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ کتنی اکیلی ہو گئی۔ نبی ﷺ نے یاد دلایا: "تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔"5 تھوڑا سا وقت، تھوڑی سی بات چیت، یہ اس حق کا بھی حصہ ہے۔

بیوی کے لیے

اسی طرح نبی ﷺ نے عورتوں کو بھی کچھ باتوں سے خبردار کیا۔ ایک بار سورج گرہن کی نماز کے بعد آپ نے ناشکری سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا: "اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر اچھا کرو، اور پھر وہ تمہاری طرف سے کوئی ناپسند بات دیکھے، تو کہہ دے گی: میں نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔"6,7 یہ ایسی بات ہے جو ناراضی میں زبان پر آ جاتی ہے اور شوہر کے دل کو لگتی ہے۔ جب ناراضی کے وقت بھی اس کی اچھائیاں یاد رہیں، تو چھوٹی سی بات بڑی نہیں بنتی۔

دوسری بات میاں بیوی کے رشتے کی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے، اور شوہر رات بھر اس سے ناراض رہے، تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔"8 یہ سخت الفاظ اس رشتے کی اہمیت بتاتے ہیں۔ لیکن یہ حکم اس وقت کا ہے جب کوئی صحیح وجہ نہ ہو، جیسے بیماری۔9 اگر شوہر ناراض نہیں ہوتا، تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے بیوی کی بات سمجھ لی یا اپنا حق چھوڑ دیا، اور پھر یہ بات نہیں رہتی۔10 اور اگر شوہر نے خود بیوی پر ظلم کر کے دوری پیدا کی ہو، تو اس کا الزام بیوی پر نہیں آتا۔10 شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی خوشی اور حالت کو سمجھ کر چلیں، تو ایسی نوبت کم ہی آتی ہے۔

تیسری بات طلاق کی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو عورت کسی سخت وجہ کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق مانگے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔"11,12 اس میں "سخت وجہ کے بغیر" کے الفاظ بہت اہم ہیں۔ یعنی جس عورت کو سچ میں نقصان یا مشکل ہو، اس پر یہ بات لاگو نہیں ہوتی۔ یہ نصیحت اس گھڑی کے لیے ہے جب غصے میں ایسی بات منہ سے نکل جائے جو دل میں نہیں ہوتی۔

دونوں کے لیے

کچھ باتیں دونوں کے کام کی ہیں۔ گھر کی بات گھر میں رہے، اور کوئی باہر والا اس رشتے کو خراب نہ کرنے پائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف بھڑکائے، وہ ہم میں سے نہیں۔"13 اور ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرنا بھی نہ بھولیے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔"14 روز کے چھوٹے کاموں پر ایک پیارا سا شکریہ رشتے کو تازہ رکھتا ہے۔

غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے، اور ایک دوسرے کو معاف کرنے سے ہی رشتہ آگے بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر گھر کو شیطان کے بہکاوے سے بچائے، اور میاں بیوی کے درمیان محبت اور رحمت کو بڑھاتا رہے۔ آمین۔


حوالہ جات: 1 صحیح مسلم 2813b، 2 سنن ابی داود 1692، 3 صحیح مسلم 2328a، 4 سنن ابی داود 2146، 5 صحیح البخاری 5199، 6 صحیح البخاری 29، 7 صحیح مسلم 907، 8 صحیح البخاری 3237، 9 ریاض الصالحین 1749، 10 فتح الباری 9/294، 11 سنن ابن ماجہ 2055، 12 سنن ابی داود 2226، 13 سنن ابی داود 2175، 14 سنن ابی داود 4811۔