نکاح کا مقصد: سکون، محبت اور رحمت
نکاح کے دن دو لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں اور ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔ قرآن اس رشتے کو ایک بہت خوبصورت نام دیتا ہے۔ وہ اسے اللہ کی نشانی کہتا ہے: "اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے شریکِ حیات بنائے، تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سوچتے سمجھتے ہیں۔"1
اس ایک آیت میں نکاح کا پورا مقصد آ گیا ہے۔ پہلی بات ہے سکون، یعنی گھر ایسی جگہ ہو جہاں دن بھر کی تھکن اتر جائے۔ دوسری بات ہے محبت، جو دل میں بھی ہو اور بات چیت اور برتاؤ میں بھی دکھے۔ اور تیسری بات ہے رحمت، یعنی وہ نرمی اور ہمدردی جو بیماری، بڑھاپے اور مشکل وقت میں بھی ساتھ نبھائے۔ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ محبت اور رحمت اللہ نے خود رکھی ہے۔ اس لیے اس کے بڑھنے کی دعا بھی اسی سے کی جا سکتی ہے۔
یہ رشتہ اتنا گہرا کیوں ہے، اس کا اشارہ ایک اور آیت میں ملتا ہے: "اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا۔"2 شوہر اور بیوی کی اصل ایک ہی ہے، اور رب بھی ایک ہی ہے۔ اسی لیے وہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ کو اپنا سمجھتے ہیں۔
ایک دوسرے کا لباس
اس قربت کو سمجھانے کے لیے قرآن نے ایک بہت پیاری مثال دی ہے: "وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔"3 یہاں ایک ہی لفظ دونوں کے لیے آیا ہے۔ لباس انسان کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ وہ اس کی کمیوں کو ڈھانپتا ہے، اسے گرمی اور سردی سے بچاتا ہے اور اس کی خوبصورتی بڑھاتا ہے۔ شوہر اور بیوی بھی ایک دوسرے کے لیے یہی ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی کمیوں پر پردہ رکھتے ہیں، ایک دوسرے کو سنبھالتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوبصورتی بن جاتے ہیں۔
اور یہ قربت صرف جذبات پر نہیں ٹکی ہوتی۔ جذبات کبھی تیز ہوتے ہیں اور کبھی ہلکے، لیکن نکاح ایک وعدہ ہے جو اپنی جگہ رہتا ہے۔ قرآن بیوی کے بارے میں مرد سے کہتا ہے: "اور انہوں نے تم سے بہت پختہ وعدہ لیا ہے۔"4 یہی الفاظ قرآن نے اس وعدے کے لیے بھی استعمال کیے ہیں جو اللہ نے اپنے نبیوں سے لیا تھا۔5 اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس رشتے کی کتنی قدر ہے۔
نکاح بھی دین کا حصہ ہے
اسی لیے گھر بسانا دین سے دور ہونا نہیں ہے۔ تین لوگوں نے نبی ﷺ کی عبادت کا حال سنا تو انہیں اپنی عبادت کم لگی۔ ایک نے ہر رات نماز پڑھنے کا ارادہ کیا، دوسرے نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا، اور تیسرے نے کہا کہ وہ نکاح نہیں کرے گا۔ نبی ﷺ نے انہیں بتایا: "لیکن میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔"6 یعنی اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھی زندگی گزارنا بھی نبی ﷺ کے طریقے پر چلنا ہے۔
تو جب آپ اپنے شریکِ حیات کے لیے کچھ اچھا کرنے کا سوچیں، تو یاد رکھیے کہ یہ بھی اللہ کو خوش کرنے کا ایک راستہ ہے۔ اور اسی سے یہ دعا مانگتے رہیے جو قرآن نے سکھائی ہے: "اے ہمارے رب، ہمیں ہمارے شریکِ حیات اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے، اور ہمیں اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آگے چلنے والا بنا۔"7 آمین۔
حوالہ جات: 1 قرآن 30:21، 2 قرآن 4:1، 3 قرآن 2:187، 4 قرآن 4:21، 5 قرآن 33:7، 6 صحیح البخاری 5063، 7 قرآن 25:74۔
No comments to display
No comments to display